19 ستمبر 2012 - 19:30

مشرق وسطی کے امور کے برطانوی تجزیہ نگار نے کہا: آل خلیفہ کبھی بھی جمہوریت کے سامنے سرتسلیم خم نہيں کرسکتی کیونکہ بحرین میں جمہوریت آنے سے آل خلیفہ کا زوال یقینی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطی کے امور کے برطانوی تجزیہ نگار کرس بیمبری (Chris Bambery) نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی طرف سے آل خلیفہ حکومت کو بھیجی گئی 176 سفارشات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آل خلیفہ حکومت کسی صورت میں بھی ان سفارشات پر عملدرآمد نہيں کرے گی کیونکہ وہ حکومت مطلق العنان اور استبدادی ہے جو بیان کی آزادی اور جمہوریت کو عمل کی اجازت نہ دے۔انھوں نے تجویز دی کہ بحرین ميں انسانی حقوق کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد کروانے کے لئے اس ملک میں بین الاقوامی مبصرین اور نگران مقرر ہونے چاہئیں کیونکہ جب تک آل خلیفہ کو امریکہ، برطانیہ اور آل سعود کی حمایت حاصل ہوگی، بحرین میں جمہوریت قائم نہيں ہوسکے گی اور اس ملک میں انسانی حقوق کا لحاظ نہیں رکھا جائے گا۔ انھوں نے کہا: جو وعدے آل خلیفہ کی حکومت دیتی ہے ان کا کوئی قانونی جواز نہيں ہے اور یہ حکومت بحرینی عوام اور احتجاجی مظاہرے کرنے والوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرتی ہے۔ مشرق وسطی کے مسائل کے اس مبصر نے کہا: آل خلیفہ حکومت کے اہلکار اور بحرینی عوام کے خلاف جرائم کے مرتکب عناصر پر عدالتوں میں مقدمہ نہيں چلایا جاتا حالانکہ ان پر انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب کی بنا پر عالمی عدالت میں مقدمہ چلنا چاہئے۔ بیمبری نے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر نیوی پیلے (Navanethem "Navi" Pillay) سے مطالبہ کیا کہ وہ بحرینی مجرمین پر بین الاقوامی جرائم کی عدالت (International Criminal Court) میں مقدمہ چلائیں۔بیمبری نے بحرینی عوام پر آل خلیفہ خاندان کے جرائم پر مغربی ممالک کی خاموشی پر کڑی تنقید کی اور کہا: مغرب نے دوسرے ممالک میں مداخلت کی لیکن بحرین میں مداخلت نہيں کی اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے مغربی ممالک منافق ہیں جو پوری قوت سے آل خلیفہ کی استبدادی اور مطلق العنان حکومت کی حمایت کررہے ہیں۔کرس بیمبری نے کہا: آل خلیفہ حکومت اور صہیونی ریاست میں کوئی فرق نظر نہيں آتا کیونکہ آل خلیفہ کی حکومت تشدد اور جبر اور عوام کو کچلنے کے حوالے سے صہیونی ریاست کی سطح پر ہے اور اگر صہیونی ریاست نے فلسطینی عوام کے حقوق غصب کرلئے ہیں تو آل خلیفہ خاندان نے بحرینی عوام کے حقوق کو پامال کررکھا ہے۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ کی حکومت جمہوریت کو قبول نہیں کرے گی کیونکہ جمہوریت قبول کرنے کی صورت میں یہ حکومت خودبخود ختم ہوجائے گی اسی وجہ سے اس حکومت نے اپنے عوام کو خاموش کرنے کے لئے سعودی عرب اور کرائے کے فوجیوں کا سہارا لیا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا: بحرین کے مسائل حل کرنے کا واحد راہ حل اس ملک پر مسلط حکومت کو تبدیل کرنے میں مضمر ہے۔ ............

/110